کاروار: 15؍ستمبر(ایس اؤ نیوز) زمین کھسکنے کےلئے کسی ایک ہی وجہ کی طرف اشارہ کرنا مشکل ہے، اچانک برسنے والی موسلا دھار بارش ، سالانہ بارش کی پیمائش، مٹی کے ذرات کی پکڑ، سبز پردے میں کمزوری ، غیر محفوظ طریقوں سے پہاڑوں کو کاٹنا سمیت 40سے زائد نکات کے ساتھ نتیجہ حاصل کرنا ہوتاہے۔ جی ایس آئی (بھارت اراضی سائنس جائزہ) ادارے کے سائنس دان کمل کمار نے ان خیالات کااظہار کیا۔
سرسی تعلقہ کے کللی ، کیلگن کیری ، یلاپور تعلقہ کےکلچی ، تلکے بائیل ، ارےبائیل، جوئیڈا تعلقہ کے انشی گھاٹ اور کاروار تعلقہ کے کوڈسلی مقاما ت پر امسال زمین کھسکی تھی ۔ اس کی وجوہات جاننے کےلئے ساتھی سائنس دان موہن راج کے ساتھ انہوں نے متعلقہ مقامات کا دورہ کرتےہوئےمعائنہ کیا۔
اپنے معائنہ کے متعلق کمل کمار نے بتایا کہ زیادہ بارش اور زمین کھسکنے سے پورا ضلع متاثر ہوتا ہوا دیکھے ہیں، کلچی میں زمین کھسک کر نالے سے رابطہ پیدا کی ہے، انشی میں بڑے بڑے پتھر لڑھکے ہیں، ان سب نکات کا باریکی سے مطالعہ کرنے کے بعد ہی کسی واضح نتیجے پر پہنچنا ممکن ہونے کی بات کہی۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہماری ٹیم نے دیکھا ہے کہ کلچی ، کوڈسلی کے اطراف کا علاقہ ہمیشہ پانی سےبھرا رہتاہے، اس لئے کیا یہی وجہ ہے یا بارش سمیت دیگر وجوہات کا پتہ لگانے کے لئے مطالعہ ضروری ہے۔ کورگ اور اترکنڑااضلاع میں ہونے والے زمین کھسکنے کے واقعات میں مماثلت یا تفریقات کا پتہ لگانا فی الحال ممکن نہیں ہے۔ دونوں اضلاع کی مٹی میں فرق ہوسکتاہے، یہاں جو کچھ ہم نے جمع کیا ہے اسی پر انحصار کرتے ہوئے مطالعہ کیا جائے گا اور زمین کھسکنےکے وجوہات کا پتہ لگانےکی کوشش کی جائےگی اور یہ ابتدائی مطالعہ ہوگا۔ قریب 20دنوں میں ہماری ٹیم اپنی رپورٹ اعلیٰ افسران کو سونپے گی اس کے بعد وہ رپورٹ کی تفتیش کرنے کے بعد حکومت اور ضلع انتظامیہ کو ارسال کرنےکی بات کہی۔